عشق میں قافلۂ سالار نہیں چاہیے ہے
عشق میں قافلۂ سالار نہیں چاہیے ہے
یہ تو دیوار ہے دیوار نہیں چاہیے ہے
یہ تو سنتی ہے فقط درہم و دینار کی بات
یہ ہے دنیا اسے کردار نہیں چاہیے ہے
کہہ دیا ہے کہ محبت کی ضرورت ہے سو ہے
ہم کو اس باب میں تکرار نہیں چاہیے ہے
ہم تو اپنے ہی کسی دھیان میں بیٹھے ہوئے ہیں
کھینچ لو سایۂ دیوار نہیں چاہیے ہے
مجھ سے مت اتنے تکلف سے ملا کر مظہرؔ
چاہیے یار اداکار نہیں چاہیے ہے