ندی نے گیت بھی گایا نہیں ہے
ندی نے گیت بھی گایا نہیں ہے
قبیلہ لوٹ کر آیا نہیں ہے
ازل سے یہ روایت ہے ہماری
اٹھایا ہے ستم ڈھایا نہیں ہے
مزے کی بات ہے دل نا سمجھ ہے
اور اس کو میں نے سمجھایا نہیں ہے
غم دنیا معافی چاہتا ہوں
یہ دل اس کو بھلا پایا نہیں ہے
مجھے تم غور سے دیکھو یہ میں ہوں
تمہارے جسم کا سایا نہیں ہے
اسی پر مطمئن بیٹھے ہوئے ہیں
کہ اب انسان چوپایہ نہیں ہے
عدو کی نیند اڑا رکھی ہے مظہرؔ
ابھی تک خواب دفنایا نہیں ہے