لفظوں کا انبار لگایا

لفظوں کا انبار لگایا
لیکن بات نہیں کہہ پایا


مجھ کو تو اس بات کا دکھ ہے
اس نے بھی مجھ کو سمجھایا


اور ہم سے کیا اٹھ سکتا تھا
ہم نے نکتہ ایک اٹھایا


طوفاں آئے بارش آئی
دریا بھی میرے گھر آیا


مظہرؔ اس کی نیند اڑا دی
ہم نے جس کو خواب دکھایا