مرے شعور کو اس طرح ورغلایا گیا

مرے شعور کو اس طرح ورغلایا گیا
کوئی وجود نہیں تھا مگر دکھایا گیا


کسی طرح بھی نہ آسیب مفلسی اترا
دعا بھی کی گئی تعویذ بھی پلایا گیا


نہ جانے کیوں مری تشکیل ہی نہیں کی گئی
زمیں کا چاک یوں ہی بے سبب گھمایا گیا


مجھے خبر ہے چھناکے سے ٹوٹ جائے گا
میں آئنے کو اگر دیر تک دکھایا گیا


نہ جانے پچھلے جنم کون سی خطا ہوئی تھی
کہ اس جنم میں مجھے آدمی بنایا گیا