سلگتی ریت کو دریا نہیں کہا میں نے
سلگتی ریت کو دریا نہیں کہا میں نے
غزل کہی ہے قصیدہ نہیں کہا میں نے
حضور محترم عزت مآب عالی جناب
یہ سارا جھوٹ ہے ایسا نہیں کہا میں نے
جو بے وفا تھا اسی کی طرف اشارہ کیا
کنایتاً اسے دنیا نہیں کہا میں نے
جو ہو بہ ہو تری تصویر بن کے آ جائے
جو سچ کہوں تو کچھ ایسا نہیں کہا میں نے
چڑھائے اس پہ نہیں میں نے صنعتوں کے غلاف
کہ سچ کو شعر میں باندھا نہیں کہا میں نے
جو کہنا چاہتا ہوں وہ ابھی کہا ہی نہیں
وگرنہ کہنے کو کیا کیا نہیں کہا میں نے