مظہر حسین سید کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    نباہ کرتے ہوئے شام بے قرار کے ساتھ

    نباہ کرتے ہوئے شام بے قرار کے ساتھ ہماری عمر کٹی رنج بے شمار کے ساتھ یہ انتظار بھی اک کام تھا جو کرنا تھا مگر کچھ اور بھی کرنا تھا انتظار کے ساتھ بیان حسن کو حسن بیاں ضروری ہے کمال فن بھی ہے لازم جمال یار کے ساتھ سو منزلوں کے تعین سے بھی گریزاں ہوں میں دشت میں ہوں کسی سرپھرے ...

    مزید پڑھیے

    سلگتی ریت کو دریا نہیں کہا میں نے

    سلگتی ریت کو دریا نہیں کہا میں نے غزل کہی ہے قصیدہ نہیں کہا میں نے حضور محترم عزت مآب عالی جناب یہ سارا جھوٹ ہے ایسا نہیں کہا میں نے جو بے وفا تھا اسی کی طرف اشارہ کیا کنایتاً اسے دنیا نہیں کہا میں نے جو ہو بہ ہو تری تصویر بن کے آ جائے جو سچ کہوں تو کچھ ایسا نہیں کہا میں ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں کا انبار لگایا

    لفظوں کا انبار لگایا لیکن بات نہیں کہہ پایا مجھ کو تو اس بات کا دکھ ہے اس نے بھی مجھ کو سمجھایا اور ہم سے کیا اٹھ سکتا تھا ہم نے نکتہ ایک اٹھایا طوفاں آئے بارش آئی دریا بھی میرے گھر آیا مظہرؔ اس کی نیند اڑا دی ہم نے جس کو خواب دکھایا

    مزید پڑھیے

    ندی نے گیت بھی گایا نہیں ہے

    ندی نے گیت بھی گایا نہیں ہے قبیلہ لوٹ کر آیا نہیں ہے ازل سے یہ روایت ہے ہماری اٹھایا ہے ستم ڈھایا نہیں ہے مزے کی بات ہے دل نا سمجھ ہے اور اس کو میں نے سمجھایا نہیں ہے غم دنیا معافی چاہتا ہوں یہ دل اس کو بھلا پایا نہیں ہے مجھے تم غور سے دیکھو یہ میں ہوں تمہارے جسم کا سایا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    عشق میں قافلۂ سالار نہیں چاہیے ہے

    عشق میں قافلۂ سالار نہیں چاہیے ہے یہ تو دیوار ہے دیوار نہیں چاہیے ہے یہ تو سنتی ہے فقط درہم و دینار کی بات یہ ہے دنیا اسے کردار نہیں چاہیے ہے کہہ دیا ہے کہ محبت کی ضرورت ہے سو ہے ہم کو اس باب میں تکرار نہیں چاہیے ہے ہم تو اپنے ہی کسی دھیان میں بیٹھے ہوئے ہیں کھینچ لو سایۂ دیوار ...

    مزید پڑھیے

تمام