نباہ کرتے ہوئے شام بے قرار کے ساتھ
نباہ کرتے ہوئے شام بے قرار کے ساتھ
ہماری عمر کٹی رنج بے شمار کے ساتھ
یہ انتظار بھی اک کام تھا جو کرنا تھا
مگر کچھ اور بھی کرنا تھا انتظار کے ساتھ
بیان حسن کو حسن بیاں ضروری ہے
کمال فن بھی ہے لازم جمال یار کے ساتھ
سو منزلوں کے تعین سے بھی گریزاں ہوں
میں دشت میں ہوں کسی سرپھرے غبار کے ساتھ
شمار عیب نہیں ہے یہ بے نیازیٔ حسن
یہ نشہ ہے کہ جو ہوتا ہے اقتدار کے ساتھ