Masoom Ansari

معصوم انصاری

معصوم انصاری کی غزل

    نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے

    نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے سوال ٹوٹتے رشتوں کے اعتبار کا ہے اٹھا لے ہاتھ میں پتھر اگر سنے کوئی عجیب حال مرے ذہن کی پکار کا ہے حد نگاہ سے آگے بھی منزلیں ہیں بہت مرا ارادہ غم ذات سے فرار کا ہے سبھی چلے گئے گھر چھوڑ کر تو کیا ہوگا بچائے شہر کو یہ کام شہریار کا ہے ذرا ہٹے تو ...

    مزید پڑھیے

    محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے

    محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے جسے ہم پیار کرتے ہیں اسی سے چوٹ لگتی ہے ضرورت سے زیادہ گفتگو اچھی نہیں لگتی ضرورت سے زیادہ خامشی سے چوٹ لگتی ہے مجھے بے خواب راتوں سے کوئی شکوہ نہیں پھر بھی اندھیرا ڈستا ہے اور چاندنی سے چوٹ لگتی ہے شکستہ اور سونی کھڑکیاں آوازے کستی ...

    مزید پڑھیے

    جس پر دل روتا ہے وہ بھی ہنس کر کرنا پڑتا ہے

    جس پر دل روتا ہے وہ بھی ہنس کر کرنا پڑتا ہے اپنے گھر کی رونق کو خود بے گھر کرنا پڑتا ہے اچھے اچھے دب جاتے ہیں رسم زمانہ کے آگے دیکھ کے چپ رہتے ہیں دل کو پتھر کرنا پڑتا ہے آنے والے دن کی فکریں خوابوں کو ڈس لیتی ہیں نیند سے جلتی آنکھوں کو بے منظر کرنا پڑتا ہے چاہنے اور چاہے جانے کی ...

    مزید پڑھیے

    میں بے امان سہی پھر بھی یہ گمان تو ہے

    میں بے امان سہی پھر بھی یہ گمان تو ہے زمیں ہے پاؤں تلے سر پہ آسمان تو ہے ہر ایک لمحہ کسی تیر کا ہے ڈر لیکن میں مطمئن ہوں کہ میرے پروں میں جان تو ہے میں اس طرح در و دیوار سے ہوں بیگانہ کہ گھر نہیں نہ سہی گھر کا اک نشان تو ہے میں اپنی کشتئ امید سے نہیں مایوس پھٹا پرانا سہی پھر بھی ...

    مزید پڑھیے

    سامنے بیٹھ کے کچھ بات بھی ہو سکتی ہے

    سامنے بیٹھ کے کچھ بات بھی ہو سکتی ہے آپ چاہیں تو ملاقات بھی ہو سکتی ہے کس نے سمجھا ہے بدلتے ہوئے موسم کا مزاج دھوپ رہتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے ہاتھ آئی ہوئی بازی پہ بہت ناز نہ کر جیتنے والے تجھے مات بھی ہو سکتی ہے وادئ شب میں چراغوں کا یہ لشکر کیسا کوئی بھٹکی ہوئی بارات بھی ...

    مزید پڑھیے

    ہر سانس مہکتا ہوا احساس ہے زندہ

    ہر سانس مہکتا ہوا احساس ہے زندہ دل میں ترے ملنے کی ابھی آس ہے زندہ اشکوں نے کوئی جس پہ عبارت نہیں چھوڑی محسوس یہ ہوتا ہے وہ قرطاس ہے زندہ اب جام نہیں زہر کا پیالہ ہے ضروری پیاسے کو گلہ ہے کہ ابھی پیاس ہے زندہ دھرتی میں جڑیں گاڑ کے سر اپنا اٹھائے بارش کے تصور میں ہری گھاس ہے ...

    مزید پڑھیے

    بہار بن کے چمن کی فضا میں شامل ہے

    بہار بن کے چمن کی فضا میں شامل ہے یہ کس کے جسم کی خوشبو ہوا میں شامل ہے کبھی ملا نہ کوئی گفتگو ہوئی جس سے وہ کون ہے جو مری ہر دعا میں شامل ہے میں جتنا بچ کے چلوں اتنا کھینچتا ہے مجھے عجب طلسم تمنا خطا میں شامل ہے سنے گا وہ تو یقیناً جواب بھی دے گا یہ کیسا ڈر ہے جو میری صدا میں شامل ...

    مزید پڑھیے

    رشتوں کے درمیان صف آرائی ہو گئی

    رشتوں کے درمیان صف آرائی ہو گئی نا آشناؤں سے بھی شناسائی ہو گئی کیا کرتے زندگی سے محبت ہمیں بھی تھی نیلام چند سکوں میں سچائی ہو گئی جس کو ہو اعتراض وہ نظریں سمیٹ لے اس دور میں برائی بھی اچھائی ہو گئی لگتا ہے گھل گئی ہے سیاست خلوص میں اپنے ہی دوستوں سے حریفائی ہو گئی سارے ثبوت ...

    مزید پڑھیے

    میں بھی کیا کرتا کہ اس کو بے وفا ہونا ہی تھا

    میں بھی کیا کرتا کہ اس کو بے وفا ہونا ہی تھا زندگی کو ایک دن مجھ سے جدا ہونا ہی تھا ہر دعا کو میرے حق میں بد دعا ہونا ہی تھا اب کسی سے کیا گلہ جو کچھ ہوا ہونا ہی تھا اپنے بے تعبیر خوابوں کی جلن کس سے کہوں اس گلابی شہر کو آتش کدہ ہونا ہی تھا پھر بھی پانی کی مجھے قیمت ادا کرنی ...

    مزید پڑھیے

    دیوانہ بنا دے گی ترے پیار کی خوشبو

    دیوانہ بنا دے گی ترے پیار کی خوشبو انکار سے آتی ہوئی اقرار کی خوشبو جی کہتا ہے کانٹوں کو بھی ہونٹوں سے لگا لوں ہر پھول سے آتی ہے لب یار کی خوشبو میں نے تو فقط ریت پہ اک نام لکھا تھا صحرا کی ہواؤں میں ہے گلزار کی خوشبو اس شہر میں خوشبو کے خریدار بہت ہیں اللہ بچائے ترے کردار کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2