Masoom Ansari

معصوم انصاری

معصوم انصاری کی غزل

    جنگل کی طرح پھیلا ہوا ڈر سمیٹ کر

    جنگل کی طرح پھیلا ہوا ڈر سمیٹ کر میں جانا چاہتا ہوں کہیں گھر سمیٹ کر دنیا سمیٹنے کے طلب گار ہیں بہت رکھا ہے میں نے خود کو بھی اکثر سمیٹ کر جی چاہتا ہے رکھ دوں کسی روز آگ پر غم ہائے روزگار کا دفتر سمیٹ کر کاٹی ہے رات ہم نے اندھیروں کے درمیاں آنکھوں میں اپنی صبح کا منظر سمیٹ ...

    مزید پڑھیے

    چہرے سے زندگی کی چمک ختم ہو گئی

    چہرے سے زندگی کی چمک ختم ہو گئی اتنا ہنسے کہ ساری للک ختم ہو گئی ہر راستہ کہیں نہ کہیں جاتا ہے مگر چلتا گیا میں اور سڑک ختم ہو گئی مجھ سے چھڑا کے ہاتھ بہت خوش ہے وہ مگر خوش رنگ چوڑیوں کی کھنک ختم ہو گئی کس سنگ دل خیال نے سہما کے رکھ دیا یک لخت آئنے کی چمک ختم ہو گئی پھولوں کی دل ...

    مزید پڑھیے

    بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں

    بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں بند کمروں کے مکیں تازہ ہوا چاہتے ہیں مفلسی ہوش اڑا دیتی ہے انسانوں کے یہ نشہ کم ہو تو دولت کا نشہ چاہتے ہیں کب کہا ہم نے کسی زہرہ جبیں کی ہے تلاش جو ہمیں ڈھونڈ سکے اس کا پتا چاہتے ہیں یہ بھی منظور نہیں چاند کے باشندوں کو ہم گھنی رات میں مٹی کا ...

    مزید پڑھیے

    زندگی ہی زندگی چاروں طرف ہے

    زندگی ہی زندگی چاروں طرف ہے آنکھ ہو تو روشنی چاروں طرف ہے کیا زمیں کیا آسماں کیا دشت و دریا آدمی کی برتری چاروں طرف ہے ایک مرکز پر ٹھہرتا ہی نہیں ہے ذہن کی آوارگی چاروں طرف ہے دیکھیے تو ہے اجالا ہی اجالا سوچئے تو تیرگی چاروں طرف ہے آنکھ سے اوجھل ترا چہرہ ہے لیکن اک علامت سی ...

    مزید پڑھیے

    اپنی کتاب عمر کا انجام لکھ دیا

    اپنی کتاب عمر کا انجام لکھ دیا پہلے ورق پہ میں نے ترا نام لکھ دیا میں لکھنا چاہتا تھا کوئی پھول سی غزل اور جب لکھا تو صرف ترا نام لکھ دیا دل نے ترے سوا نہ کوئی بات کی قبول سب کچھ بنام گردش ایام لکھ دیا رسوائیوں کے موڑ پہ تنہا کھڑا ہوں میں اپنا گناہ سب نے مرے نام لکھ دیا ہم ایسے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2