میں بھی کیا کرتا کہ اس کو بے وفا ہونا ہی تھا

میں بھی کیا کرتا کہ اس کو بے وفا ہونا ہی تھا
زندگی کو ایک دن مجھ سے جدا ہونا ہی تھا


ہر دعا کو میرے حق میں بد دعا ہونا ہی تھا
اب کسی سے کیا گلہ جو کچھ ہوا ہونا ہی تھا


اپنے بے تعبیر خوابوں کی جلن کس سے کہوں
اس گلابی شہر کو آتش کدہ ہونا ہی تھا


پھر بھی پانی کی مجھے قیمت ادا کرنی پڑی
میرے لب پر تشنگی کا ذائقہ ہونا ہی تھا


موت کے بے رحم ہاتھوں کو بہانے کی تلاش
زندگی کے ساتھ کوئی حادثہ ہونا ہی تھا


میں بہت حساس ہوں اس میں کسی کا کیا قصور
آئنہ بن کر مجھے سنگ آشنا ہونا ہی تھا


میں نے اپنے سارے ناخن کاٹ ڈالے تھے مگر
زخم کو معصومؔ دوبارہ ہرا ہونا ہی تھا