جس پر دل روتا ہے وہ بھی ہنس کر کرنا پڑتا ہے

جس پر دل روتا ہے وہ بھی ہنس کر کرنا پڑتا ہے
اپنے گھر کی رونق کو خود بے گھر کرنا پڑتا ہے


اچھے اچھے دب جاتے ہیں رسم زمانہ کے آگے
دیکھ کے چپ رہتے ہیں دل کو پتھر کرنا پڑتا ہے


آنے والے دن کی فکریں خوابوں کو ڈس لیتی ہیں
نیند سے جلتی آنکھوں کو بے منظر کرنا پڑتا ہے


چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش جرم نہیں لیکن
رسوائی کو اپنے سر کی چادر کرنا پڑتا ہے


ایسے موڑ پہ آ جاتی ہے بڑھتے بڑھتے بات کبھی
پھول سے لہجے کو مجبوراً خنجر کرنا پڑتا ہے


رات پرائے دیس میں کاٹی تو یہ بھی معلوم ہوا
ہاتھ کو تکیہ اور زمیں کو بستر کرنا پڑتا ہے


جی کہتا ہے رد کر دوں میں ایسے خوابوں کو معصومؔ
جن کی تعبیروں پر ماتم اکثر کرنا پڑتا ہے