نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے
نہ مصلحت نہ تکلف نہ انکسار کا ہے
سوال ٹوٹتے رشتوں کے اعتبار کا ہے
اٹھا لے ہاتھ میں پتھر اگر سنے کوئی
عجیب حال مرے ذہن کی پکار کا ہے
حد نگاہ سے آگے بھی منزلیں ہیں بہت
مرا ارادہ غم ذات سے فرار کا ہے
سبھی چلے گئے گھر چھوڑ کر تو کیا ہوگا
بچائے شہر کو یہ کام شہریار کا ہے
ذرا ہٹے تو پڑھوں میں بھی وقت کا چہرہ
نظر کے سامنے پردہ ابھی غبار کا ہے
فروغ کیسے ملا نفرتوں کو جب کہ یہاں
ہر ایک آدمی امیدوار پیار کا ہے
عجیب چیز ہے یہ عرصۂ تمنا بھی
جسے بھی دیکھیے قیدی اسی حصار کا ہے