ہر سانس مہکتا ہوا احساس ہے زندہ

ہر سانس مہکتا ہوا احساس ہے زندہ
دل میں ترے ملنے کی ابھی آس ہے زندہ


اشکوں نے کوئی جس پہ عبارت نہیں چھوڑی
محسوس یہ ہوتا ہے وہ قرطاس ہے زندہ


اب جام نہیں زہر کا پیالہ ہے ضروری
پیاسے کو گلہ ہے کہ ابھی پیاس ہے زندہ


دھرتی میں جڑیں گاڑ کے سر اپنا اٹھائے
بارش کے تصور میں ہری گھاس ہے زندہ


بے جان سمجھ کر جسے وہ چھوڑ گیا تھا
معصومؔ وہ تصویر مرے پاس ہے زندہ