محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے
محبت کے سفر میں بے رخی سے چوٹ لگتی ہے
جسے ہم پیار کرتے ہیں اسی سے چوٹ لگتی ہے
ضرورت سے زیادہ گفتگو اچھی نہیں لگتی
ضرورت سے زیادہ خامشی سے چوٹ لگتی ہے
مجھے بے خواب راتوں سے کوئی شکوہ نہیں پھر بھی
اندھیرا ڈستا ہے اور چاندنی سے چوٹ لگتی ہے
شکستہ اور سونی کھڑکیاں آوازے کستی ہیں
گزرتا ہوں میں جب اس کی گلی سے چوٹ لگتی ہے
تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو تو حیران مت ہونا
کسی سے ملتی ہے راحت کسی سے چوٹ لگتی ہے
یہاں سب اپنی فطرت کے سبب پہچانے جاتے ہیں
شکاری ذہنیت کو سادگی سے چوٹ لگتی ہے
کبھی حیران رہ جاتا ہوں ظالم کی جسارت پر
کبھی معصومؔ اپنی بزدلی سے چوٹ لگتی ہے