رشتوں کے درمیان صف آرائی ہو گئی

رشتوں کے درمیان صف آرائی ہو گئی
نا آشناؤں سے بھی شناسائی ہو گئی


کیا کرتے زندگی سے محبت ہمیں بھی تھی
نیلام چند سکوں میں سچائی ہو گئی


جس کو ہو اعتراض وہ نظریں سمیٹ لے
اس دور میں برائی بھی اچھائی ہو گئی


لگتا ہے گھل گئی ہے سیاست خلوص میں
اپنے ہی دوستوں سے حریفائی ہو گئی


سارے ثبوت چھوڑ کے سر کاٹ لے گئے
نادان قاتلوں سے یہ دانائی ہو گئی


معصومؔ میرا شعر تھا یا موج بے قرار
گھر بیٹھے سارے شہر میں رسوائی ہو گئی