تیری قربت سے کچھ زیادہ ہے
تیری قربت سے کچھ زیادہ ہے ہجر لذت سے کچھ زیادہ ہے اے مری جان میری بدنامی تیری شہرت سے کچھ زیادہ ہے وہ جو معصوم سی محبت تھی اب عقیدت سے کچھ زیادہ ہے عمر بھر اپنے آپ سے لڑنا میری ہمت سے کچھ زیادہ ہے غم زیادہ سو شاعری اپنی اس سہولت سے کچھ زیادہ ہے جس کو چاہا تھا اس کا مر جانا اک ...