Masoodurrahman Masood

مسعودالرحمن مسعود

مسعودالرحمن مسعود کی غزل

    تیری قربت سے کچھ زیادہ ہے

    تیری قربت سے کچھ زیادہ ہے ہجر لذت سے کچھ زیادہ ہے اے مری جان میری بدنامی تیری شہرت سے کچھ زیادہ ہے وہ جو معصوم سی محبت تھی اب عقیدت سے کچھ زیادہ ہے عمر بھر اپنے آپ سے لڑنا میری ہمت سے کچھ زیادہ ہے غم زیادہ سو شاعری اپنی اس سہولت سے کچھ زیادہ ہے جس کو چاہا تھا اس کا مر جانا اک ...

    مزید پڑھیے

    سانپ جیسے کہ کبھی آنکھ جھپکتا ہی نہیں

    سانپ جیسے کہ کبھی آنکھ جھپکتا ہی نہیں یوں کوئی درد ہے سینے میں جو سوتا ہی نہیں اس سے جھگڑوں بھی تو کس بات پہ جھگڑوں آخر جب مرے ساتھ وہ ہوتے ہوئے ہوتا ہی نہیں ہجر ہر شام بجھی آنکھ لئے آتا ہے وصل کا چاند کسی چھت پہ نکلتا ہی نہیں رابطوں کی ہے وہ فہرست میں خاموش کہیں ایک نمبر کہ جو ...

    مزید پڑھیے

    ختم ہو کر بھی چل رہی ہے کہیں

    ختم ہو کر بھی چل رہی ہے کہیں داستاں جو کہ رک گئی ہے کہیں شعر اک درد کی امانت ہے درد جس میں ابھی کمی ہے کہیں جسم بھی تھک کے سو گیا آخر سانس بھی سانس لے رہی ہے کہیں دل کی ٹوٹی ہے بانسری ایسے غم کی ناگن بھی رو رہی ہے کہیں چاند پر موت کی اداسی ہے چاندنی شب پہ مر مٹی ہے کہیں میری ...

    مزید پڑھیے

    ستارہ توڑ سکتا ہوں

    ستارہ توڑ سکتا ہوں سہارا توڑ سکتا ہوں ذرا آنکھوں کو سمجھاؤ اشارہ توڑ سکتا ہوں یہ میرا دل تو میرا ہے تمہارا توڑ سکتا ہوں تعلق کب ضروری ہے دوبارہ توڑ سکتا ہوں تری دریا طبیعت کا کنارہ توڑ سکتا ہوں ذرا سا عشق کیا کرنا میں سارا توڑ سکتا ہوں نظر مسعودؔ ایسی ہے نظارہ توڑ سکتا ...

    مزید پڑھیے

    کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا

    کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا اک شخص یوں جہان سے اٹھ کر چلا گیا ہر اک خیال خام ترے پیار کی قسم یادوں کے درمیان سے اٹھ کر چلا گیا کچھ تو خلا میں خاص ہے تارہ یہ سوچ کر ٹوٹا اور آسمان سے اٹھ کر چلا گیا اس کے بھی سر پہ دھوپ کی اک آگ تھی لگی یوں میں تو سائبان سے اٹھ کر چلا گیا اس کو نہ ...

    مزید پڑھیے

    اتنا حسیں جو کہہ دیا

    اتنا حسیں جو کہہ دیا تم ہو نہیں جو کہہ دیا کہتے تو ہو کہ شکر ہے کیا ہے یقیں جو کہہ دیا یوں ہی نہیں جو سن لیا یوں ہی نہیں جو کہہ دیا کیا وہ بھی لکھا جائے گا کچھ بھی کہیں جو کہہ دیا اب رہنا بن کر آسماں مجھ کو زمیں جو کہہ دیا تم نے بھلا دی بات پر ہم ہیں وہیں جو کہہ دیا

    مزید پڑھیے

    اگر برباد ہو جائیں

    اگر برباد ہو جائیں تو ہم بھی یاد ہو جائیں خدا اس کو بنا ڈالیں چلو فریاد ہو جائیں وہی آباد رہتے ہیں جو دل برباد ہو جائیں تمنا ہے ترے لب سے کبھی ارشاد ہو جائیں کریں پھر کیا محبت سے اگر آزاد ہو جائیں غزل مسعودؔ کی سن لیں تو غم بھی شاد ہو جائیں

    مزید پڑھیے

    شکر آخر عذاب سے نکلا

    شکر آخر عذاب سے نکلا وقت عہد شباب سے نکلا اس کے ہم یوں بیان سے نکلے جیسے کانٹا گلاب سے نکلا عمر یک دم چلی گئی پیچھے خط اچانک کتاب سے نکلا جان تاروں نے ٹوٹ کر دے دی گیت ایسا رباب سے نکلا مرنے والے تجھے مبارک تو زندگی کے سراب سے نکلا ڈھیر سارے گلے نکل آئے دل نہ خانہ خراب سے ...

    مزید پڑھیے