Masoodurrahman Masood

مسعودالرحمن مسعود

مسعودالرحمن مسعود کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    تیری قربت سے کچھ زیادہ ہے

    تیری قربت سے کچھ زیادہ ہے ہجر لذت سے کچھ زیادہ ہے اے مری جان میری بدنامی تیری شہرت سے کچھ زیادہ ہے وہ جو معصوم سی محبت تھی اب عقیدت سے کچھ زیادہ ہے عمر بھر اپنے آپ سے لڑنا میری ہمت سے کچھ زیادہ ہے غم زیادہ سو شاعری اپنی اس سہولت سے کچھ زیادہ ہے جس کو چاہا تھا اس کا مر جانا اک ...

    مزید پڑھیے

    سانپ جیسے کہ کبھی آنکھ جھپکتا ہی نہیں

    سانپ جیسے کہ کبھی آنکھ جھپکتا ہی نہیں یوں کوئی درد ہے سینے میں جو سوتا ہی نہیں اس سے جھگڑوں بھی تو کس بات پہ جھگڑوں آخر جب مرے ساتھ وہ ہوتے ہوئے ہوتا ہی نہیں ہجر ہر شام بجھی آنکھ لئے آتا ہے وصل کا چاند کسی چھت پہ نکلتا ہی نہیں رابطوں کی ہے وہ فہرست میں خاموش کہیں ایک نمبر کہ جو ...

    مزید پڑھیے

    ختم ہو کر بھی چل رہی ہے کہیں

    ختم ہو کر بھی چل رہی ہے کہیں داستاں جو کہ رک گئی ہے کہیں شعر اک درد کی امانت ہے درد جس میں ابھی کمی ہے کہیں جسم بھی تھک کے سو گیا آخر سانس بھی سانس لے رہی ہے کہیں دل کی ٹوٹی ہے بانسری ایسے غم کی ناگن بھی رو رہی ہے کہیں چاند پر موت کی اداسی ہے چاندنی شب پہ مر مٹی ہے کہیں میری ...

    مزید پڑھیے

    ستارہ توڑ سکتا ہوں

    ستارہ توڑ سکتا ہوں سہارا توڑ سکتا ہوں ذرا آنکھوں کو سمجھاؤ اشارہ توڑ سکتا ہوں یہ میرا دل تو میرا ہے تمہارا توڑ سکتا ہوں تعلق کب ضروری ہے دوبارہ توڑ سکتا ہوں تری دریا طبیعت کا کنارہ توڑ سکتا ہوں ذرا سا عشق کیا کرنا میں سارا توڑ سکتا ہوں نظر مسعودؔ ایسی ہے نظارہ توڑ سکتا ...

    مزید پڑھیے

    کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا

    کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا اک شخص یوں جہان سے اٹھ کر چلا گیا ہر اک خیال خام ترے پیار کی قسم یادوں کے درمیان سے اٹھ کر چلا گیا کچھ تو خلا میں خاص ہے تارہ یہ سوچ کر ٹوٹا اور آسمان سے اٹھ کر چلا گیا اس کے بھی سر پہ دھوپ کی اک آگ تھی لگی یوں میں تو سائبان سے اٹھ کر چلا گیا اس کو نہ ...

    مزید پڑھیے

تمام