اگر برباد ہو جائیں

اگر برباد ہو جائیں
تو ہم بھی یاد ہو جائیں


خدا اس کو بنا ڈالیں
چلو فریاد ہو جائیں


وہی آباد رہتے ہیں
جو دل برباد ہو جائیں


تمنا ہے ترے لب سے
کبھی ارشاد ہو جائیں


کریں پھر کیا محبت سے
اگر آزاد ہو جائیں


غزل مسعودؔ کی سن لیں
تو غم بھی شاد ہو جائیں