کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا
کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا
اک شخص یوں جہان سے اٹھ کر چلا گیا
ہر اک خیال خام ترے پیار کی قسم
یادوں کے درمیان سے اٹھ کر چلا گیا
کچھ تو خلا میں خاص ہے تارہ یہ سوچ کر
ٹوٹا اور آسمان سے اٹھ کر چلا گیا
اس کے بھی سر پہ دھوپ کی اک آگ تھی لگی
یوں میں تو سائبان سے اٹھ کر چلا گیا
اس کو نہ واپسی کا کبھی راستہ ملا
جو لفظ بھی زبان سے اٹھ کر چلا گیا
آدم کسی کے واسطے جنت کو چھوڑ کر
مسعودؔ کتنی شان سے اٹھ کر چلا گیا