شکر آخر عذاب سے نکلا

شکر آخر عذاب سے نکلا
وقت عہد شباب سے نکلا


اس کے ہم یوں بیان سے نکلے
جیسے کانٹا گلاب سے نکلا


عمر یک دم چلی گئی پیچھے
خط اچانک کتاب سے نکلا


جان تاروں نے ٹوٹ کر دے دی
گیت ایسا رباب سے نکلا


مرنے والے تجھے مبارک تو
زندگی کے سراب سے نکلا


ڈھیر سارے گلے نکل آئے
دل نہ خانہ خراب سے نکلا


وہ تو مسعودؔ خود سوالی تھا
راز اس کے جواب سے نکلا