ختم ہو کر بھی چل رہی ہے کہیں
ختم ہو کر بھی چل رہی ہے کہیں
داستاں جو کہ رک گئی ہے کہیں
شعر اک درد کی امانت ہے
درد جس میں ابھی کمی ہے کہیں
جسم بھی تھک کے سو گیا آخر
سانس بھی سانس لے رہی ہے کہیں
دل کی ٹوٹی ہے بانسری ایسے
غم کی ناگن بھی رو رہی ہے کہیں
چاند پر موت کی اداسی ہے
چاندنی شب پہ مر مٹی ہے کہیں
میری آنکھوں سے پیار کی ندیا
اس کی آنکھوں میں ڈوبتی ہے کہیں