سانپ جیسے کہ کبھی آنکھ جھپکتا ہی نہیں
سانپ جیسے کہ کبھی آنکھ جھپکتا ہی نہیں
یوں کوئی درد ہے سینے میں جو سوتا ہی نہیں
اس سے جھگڑوں بھی تو کس بات پہ جھگڑوں آخر
جب مرے ساتھ وہ ہوتے ہوئے ہوتا ہی نہیں
ہجر ہر شام بجھی آنکھ لئے آتا ہے
وصل کا چاند کسی چھت پہ نکلتا ہی نہیں
رابطوں کی ہے وہ فہرست میں خاموش کہیں
ایک نمبر کہ جو اسکرین پہ آتا ہی نہیں
تربت ضبط میں یادوں کی سلیں دل پہ لئے
تیرے چہرے کو نگاہوں سے ہٹاتا ہی نہیں
میرے اعصاب پہ طاری ہے محبت کی تھکن
اتنی زیادہ کہ کسی حال میں روتا ہی نہیں
چاند مسعودؔ خلاؤں میں ہے ٹوٹا پھوٹا
اس لئے میں تو کبھی عید مناتا ہی نہیں