ستارہ توڑ سکتا ہوں
ستارہ توڑ سکتا ہوں
سہارا توڑ سکتا ہوں
ذرا آنکھوں کو سمجھاؤ
اشارہ توڑ سکتا ہوں
یہ میرا دل تو میرا ہے
تمہارا توڑ سکتا ہوں
تعلق کب ضروری ہے
دوبارہ توڑ سکتا ہوں
تری دریا طبیعت کا
کنارہ توڑ سکتا ہوں
ذرا سا عشق کیا کرنا
میں سارا توڑ سکتا ہوں
نظر مسعودؔ ایسی ہے
نظارہ توڑ سکتا ہوں