محبت کا دکھاوا کر رہا ہے

محبت کا دکھاوا کر رہا ہے
وہ میرے ساتھ دھوکا کر رہا ہے


سماعت نے اذاں جب سے سنی ہے
مرا ایمان سجدہ کر رہا ہے


جسے مسند کی چاہت ہو گئی ہے
وہی لاشوں کا دھندا کر رہا ہے


عبادت علم کی آغوش میں ہے
کوئی قطرہ کو دریا کر رہا ہے


کوئی مصروف ہے شکر خدا میں
کوئی دن رات شکوہ کر رہا ہے


جہاں میں کس لیے بھیجا گیا تھا
مگر مشکورؔ کیا کیا کر رہا ہے