تیری زمیں کی خاک میں مل کر چلے گئے
تیری زمیں کی خاک میں مل کر چلے گئے
جانے یہاں سے کتنے سکندر چلے گئے
مایوسیاں سمٹ کے نظر میں سما گئیں
جب تم مری نگاہ سے باہر چلے گئے
شرمندۂ نظر تھے نظر کیا ملاتے وہ
کچھ لوگ اپنے سر کو جھکا کر چلے گئے
سوچا تھا ہم نے ساتھ گزاریں گے زندگی
تم تو ہماری سوچ بدل کر چلے گئے
خنجر کا گھاؤ جسم کے باہر بنا رہا
الفاظ تیرے دل کے بھی اندر چلے گئے
اچھی لگی مجھے کہ بری ان کو کیا غرض
جو بات ان کے دل میں تھی کہہ کر چلے گئے
ٹوٹی ہوئی تھی ناؤ کنارہ قریب تھا
طوفان اپنا رعب دکھا کر چلے گئے