جب کوئی سچ بات چھپانی پڑتی ہے

جب کوئی سچ بات چھپانی پڑتی ہے
تب جھوٹی اک بات بنانی پڑتی ہے


اندر اندر کتنے ہی ہم زخمی ہوں
چہرے پر مسکان سجانی پڑتی ہے


اعتماد بھی حد سے زیادہ ٹھیک نہیں
کبھی کبھی تو منہ کی خانی پڑتی ہے


ارمانوں کی لاش اٹھا کر کاندھوں پر
کسی کسی کو عمر بتانی پڑتی ہے


کبھی کبھی کچھ یاد بھی رکھنا پڑتا ہے
کبھی کبھی ہر بات بھلانی پڑتی ہے


ہم سے ہی دہشت گردی ہے اور ہمیں
سب سے زیادہ جان گنوانی پڑتی ہے


تھپکی دے کر ہم کو تو مشکورؔ یہاں
تیری تمنا روز سلانی پڑتی ہے