ترا فراق مقدر سمجھ لیا ہم نے

ترا فراق مقدر سمجھ لیا ہم نے
اب اپنے آپ کو پتھر سمجھ لیا ہم نے


تمہاری یاد کے پلکوں پہ اشک روشن تھے
اندھیری شب کو منور سمجھ لیا ہم نے


یہ خود فریبی نہیں ہے تو اور کیا کہئے
ہر ایک سائے کو پیکر سمجھ لیا ہم نے


سپرد کر دئے سارے حقوق رہزن کو
یہ کس ذلیل کو رہبر سمجھ لیا ہم نے


تمام جسم تھکاوٹ سے چور چور ہوا
تب اس زمین کو بستر سمجھ لیا ہم نے


ہماری بھول تھی قد میں بہت جو چھوٹے تھے
انہیں بھی قد کے برابر سمجھ لیا ہم نے


وہ جس نے جان اذیت میں ڈال دی مشکورؔ
اسے ہی جان سے بڑھ کر سمجھ لیا ہم نے