کھلے گی نیند خوابوں کا گھروندا ٹوٹ جائے گا

کھلے گی نیند خوابوں کا گھروندا ٹوٹ جائے گا
حقیقت روبرو ہوگی تو سپنا ٹوٹ جائے گا


تمہیں تو چاند بننا ہے مری تاریک راتوں کا
ستارہ تم نہیں بننا ستارا ٹوٹ جائے گا


مجھے اپنوں یا غیروں سے کوئی شکوہ نہیں لیکن
فریب اتنے ملیں گے تو بھروسہ ٹوٹ جائے گا


مرا معصوم دل تو فطرتاً شیشے کے جیسا ہے
مسلسل وار ہونے پر تو لوہا ٹوٹ جائے گا


ابھی کچھ وقت باقی ہے شجر پہ زرد پتے کا
ہوائیں تیز ہونے سے یہ پتا ٹوٹ جائے گا


تمہیں ہر حال میں مشکورؔ اس کو بھول جانا ہے
ارادہ تم نہیں کرنا ارادہ ٹوٹ جائے گا