ایسا نہیں دعاؤں میں مانگا نہیں تجھے

ایسا نہیں دعاؤں میں مانگا نہیں تجھے
قسمت میں ہی نہیں تھا جو پایا نہیں تجھے


دل تو عقیدتوں کی حدوں سے گزر گیا
وہ تو خدا کا خوف تھا پوجا نہیں تجھے


سب منتظر تھے میری نگاہیں کدھر اٹھیں
میں نے بھی احتیاط میں دیکھا نہیں تجھے


شاید پلٹ کے دیکھ لے تو ہی میری طرف
میں نے اسی امید پہ روکا نہیں تجھے


تیرے خیال ساتھ تھے میرے قدم قدم
میں تو کسی قدم پہ بھی بھولا نہیں تجھے


اندیشۂ جدائی کے ڈر میں جیا ہوں میں
یہ مت سمجھ کے ٹوٹ کے چاہا نہیں تجھے


وہ پل حرام ہو گیا مشکورؔ کے لئے
جس پل تصورات میں پایا نہیں تجھے