جنوں کی سر پرستی چاہتی ہے

جنوں کی سر پرستی چاہتی ہے
بغاوت اب بلندی چاہتی ہے


بھلا کر فرق سب اچھے برے کا
یہ دنیا بس ترقی چاہتی ہے


مریں ہندو مسلماں بوڑھے بچے
سیاست صرف کرسی چاہتی ہے


تکبر ناگواری کا سبب ہے
عبادت عاجزی بھی چاہتی ہے


فقط وعدوں سے یہ بجھتی نہیں ہے
شکم کی آگ روٹی چاہتی ہے


یہ چنگاری سیاست کی وطن میں
تباہی ہی تباہی چاہتی ہے


اسے مشکورؔ ہے میری تمنا
مگر سب کی وہ مرضی چاہتی ہے