Maqsood Anwar Maqsood

مقصود انور مقصود

مقصود انور مقصود کی غزل

    ہنس رہا ہوگا شکاری جال پھیلاتے ہوئے

    ہنس رہا ہوگا شکاری جال پھیلاتے ہوئے خوف آتا ہے مجھے گھر لوٹ کر جاتے ہوئے مانگتے ہیں لوگ پانی کی دعا با چشم نم خوش ہے بادل ہر طرف تیزاب برساتے ہوئے خامشی تو مسئلے کا حل نہیں لگتی ہے اور بات بگڑی ہے ہمیشہ بات منواتے ہوئے مختلف ہے سوچ اس کی میں نے چاہا تھا مگر میرا بچہ ہو بڑا کل ...

    مزید پڑھیے

    حیا کی اک حسیں چادر اگر تانی نہیں ہوتی

    حیا کی اک حسیں چادر اگر تانی نہیں ہوتی تمہاری صبح روشن رات نورانی نہیں ہوتی انہیں ہرگز نہیں ملتی کبھی بھی عشق کی دولت وہ جن سے زندگی میں دوست نادانی نہیں ہوتی ہماری لاج رکھ لی زندگی کی بھول نے ورنہ ہماری عشق کی دنیا میں سلطانی نہیں ہوتی دلوں کو توڑنے والو بڑھا کر دوریاں ...

    مزید پڑھیے

    وادئ قلب کے حالات تمہیں کیا معلوم

    وادئ قلب کے حالات تمہیں کیا معلوم کیا ستم ڈھاتے ہیں جذبات تمہیں کیا معلوم تم نے ہر وقت ہی خوشیوں کے اجالے دیکھے غم کی ہوتی ہے سیہ رات تمہیں کیا معلوم میرے اشعار اٹھاتے ہیں سوالات مگر خاک تم دو گے جوابات تمہیں کیا معلوم تم ہمیں بھول گئے عیش و طرب میں لیکن ہم نے بھولی نہ کوئی ...

    مزید پڑھیے

    مکر و عیاری کا دامن چھوڑ دے

    مکر و عیاری کا دامن چھوڑ دے عقل سے غیرت کا رشتہ جوڑ دے ظرف ہے تو موڑ لے کچھ پاؤں اور چھوٹی چادر کی شکایت چھوڑ دے جگ ہنسائی ہو نہ جائے پھر کہیں بے سبب اوروں پہ ہنسنا چھوڑ دے ظلم کو برداشت کرنا جرم ہے ظالمانہ فعل کا دم توڑ دے دل کے دونوں حرف ہوتے ہیں جدا ہو سکے تو ٹوٹے دل کو جوڑ ...

    مزید پڑھیے

    شائبہ ہجرت کا اب میرے ارادے میں نہیں

    شائبہ ہجرت کا اب میرے ارادے میں نہیں دوسری انصار کی بستی بھی نقشے میں نہیں عشق کو دینا پڑا ہے اپنی سانسوں کا خراج یہ بھی طے ہے اس بنا پر میں خسارے میں نہیں خوش گماں ہیں ٹوٹے پھوٹے لوگ بھی اس شہر میں کون ہے وہ جو دبا خود اپنے ملبے میں نہیں یہ المیہ ہے چمکتے جگمگاتے دور کا روشنی ...

    مزید پڑھیے

    آئے ہیں دینے تسلی وہ سنبھل جانے کے بعد

    آئے ہیں دینے تسلی وہ سنبھل جانے کے بعد زندگی کی دھوپ کا موسم بدل جانے کے بعد ہے مرا بھی اک مسیحا دوستو تم دیکھنا آئے گا لیکن وہ میرا دم نکل جانے کے بعد عمر بھر اب قبر پر میری دعا خوانی کریں چہرۂ اخلاص پر وہ خاک مل جانے کے بعد ان کے آتے بزم میں کیوں ہوش سب کے اڑ گئے دور ہوتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    خشک آنکھوں میں کچھ نمی کے لیے

    خشک آنکھوں میں کچھ نمی کے لیے دل پریشاں ہے اک خوشی کے لیے آپ روٹھیں تو دل یہ تڑپے گا سانس ٹوٹے نہ نغمگی کے لیے اس کو جادو نہیں تو کیا کہیے دل مچلتا ہے اجنبی کے لیے جس نے تھاما ہے دل سے ہاتھ مرا دل دھڑکتا ہے بس اسی کے لیے ہم سے قائم ہے حسن کی دنیا عشق ہے حسن زندگی کے لیے پھول اک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2