شائبہ ہجرت کا اب میرے ارادے میں نہیں

شائبہ ہجرت کا اب میرے ارادے میں نہیں
دوسری انصار کی بستی بھی نقشے میں نہیں


عشق کو دینا پڑا ہے اپنی سانسوں کا خراج
یہ بھی طے ہے اس بنا پر میں خسارے میں نہیں


خوش گماں ہیں ٹوٹے پھوٹے لوگ بھی اس شہر میں
کون ہے وہ جو دبا خود اپنے ملبے میں نہیں


یہ المیہ ہے چمکتے جگمگاتے دور کا
روشنی ہوتے ہوئے بھی ہم اجالے میں نہیں


ہو نہیں سکتی انا اک خاکساری سے بلند
بوریے میں جو مسرت ہے وہ صوفے میں نہیں


چند لمحوں میں ہوا کرتا ہے طے لمبا سفر
کیا ہے وہ رفتار جو سکوں کے پہیے میں نہیں


تو نے کیا نعمت عطا کی ہے دل مقصودؔ کو
مجھ میں ہے جو درد وہ کوئی فرشتے میں نہیں