حیا کی اک حسیں چادر اگر تانی نہیں ہوتی

حیا کی اک حسیں چادر اگر تانی نہیں ہوتی
تمہاری صبح روشن رات نورانی نہیں ہوتی


انہیں ہرگز نہیں ملتی کبھی بھی عشق کی دولت
وہ جن سے زندگی میں دوست نادانی نہیں ہوتی


ہماری لاج رکھ لی زندگی کی بھول نے ورنہ
ہماری عشق کی دنیا میں سلطانی نہیں ہوتی


دلوں کو توڑنے والو بڑھا کر دوریاں دیکھو
محبت فاصلے رکھ کر بھی بیگانی نہیں ہوتی


محبت کس گلی میں رقص کرتی کس پہ اتراتی
اگر لیلیٰ کسی مجنوں کی دیوانی نہیں ہوتی


قدم تپتے ہوئے صحراؤں پہ رکھا ہے مجنوں نے
تبھی تو عشق کی دنیا میں ویرانی نہیں ہوتی


کہاں سے اکبر اعظم کے گلشن میں بہار آتی
اگر چنری وہ جودھابائی کی دھانی نہیں ہوتی


فروعی عشق نے مقصودؔ رسوا کر دیا ہوتا
بزرگوں کی نصیحت تو نے جو مانی نہیں ہوتی