Maqsood Anwar Maqsood

مقصود انور مقصود

مقصود انور مقصود کی غزل

    عشق محنت کا صلہ حد سے سوا مانگتا ہے

    عشق محنت کا صلہ حد سے سوا مانگتا ہے دل وہ مزدور ہے اجرت میں وفا مانگتا ہے بے سبب سڑکوں پہ آوارہ سا اک ننگا بدن کوئی دیوانہ ہے زخموں کی قبا مانگتا ہے وہ کثافت ہے ہواؤں میں کہ دم گھٹ جائے پھر بھی جینے کی ہر انسان دعا مانگتا ہے تیرے اس فعل کا مفہوم سمجھنا مشکل تو ہے مختار مگر میری ...

    مزید پڑھیے

    عجیب لوگ ہیں کیا شے کہاں سے مانگتے ہیں

    عجیب لوگ ہیں کیا شے کہاں سے مانگتے ہیں یقیں کا اجر جہان گماں سے مانگتے ہیں یہ زلزلے تو تباہی سے کم پہ راضی نہیں سو یہ خراج زمان و مکاں سے مانگتے ہیں جہاں سے ملتا ہے اس سمت دیکھتے ہی نہیں کبھی فلاں کبھی ابن فلاں سے مانگتے ہیں یہ کون لے گیا چن چن کے شاخ گل کی خوشی کہاں وہ پھول جو ...

    مزید پڑھیے

    کبھی اوجھل کبھی پیش نظر ہے

    کبھی اوجھل کبھی پیش نظر ہے محبت میں شرارت کا اثر ہے لچک جائے گی شاخ گل کہاں پر نزاکت سے وہ اپنی بے خبر ہے ادائیں دل پہ دستک دے رہی ہیں محبت گفتگو سے بالاتر ہے انہیں حق ہے وہ مجھ سے روٹھ جائیں مگر دل میں رہیں یہ ان کا گھر ہے خیالوں میں رہا کرتا ہے ہر دم بچھڑ کر بھی وہ میرا ہم سفر ...

    مزید پڑھیے

    رشتوں میں بھی آئی سیاست کیسی بے ایمانی ہے

    رشتوں میں بھی آئی سیاست کیسی بے ایمانی ہے ہیں سارے الفاظ شگفتہ لہجے میں ویرانی ہے ہو گیا مشکل کیسے چھپاؤں سر سے لے کر پاؤں تلک اپنی چادر پھٹ سکتی ہے ایسی کھینچا تانی ہے اس کو پانے کی کوشش میں جان تری ہلکان ہے کیوں دنیا اندر سے پیتل اوپر سونے کا پانی ہے اس حمام میں سب ننگے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ قد آور مری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا

    وہ قد آور مری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا میرے جھکنے پہ بھی وہ میرے برابر نہ ہوا اپنی دستار کا سودا نہیں ہوگا مجھ سے وقت کے قدموں پہ خم میرا کبھی سر نہ ہوا اپنی آنکھوں سے پلا کر مجھے سیراب کرو پیاس اتنی ہے کہ دو گھونٹ سمندر نہ ہوا میں تو اس بوجھ کو سینے سے الگ کر دوں گا دل کا کیا کام ...

    مزید پڑھیے

    چھوڑ کر بے حال مجھ کو اپنے بیگانے گئے

    چھوڑ کر بے حال مجھ کو اپنے بیگانے گئے گردش ایام میں سب لوگ پہچانے گئے جانے کس کی بد نظر نے حشر برپا کر دیا مونس و غم خوار سب دشمن میں گردانے گئے کوئی بھی تدبیر اپنی کام اب آتی نہیں میری عقل و فہم کے مشہور افسانے گئے بھوک اور افلاس کی سولی چڑھا کر قوم کو رہنمائے وقت اب پرچم کو ...

    مزید پڑھیے

    گلوں کی سمت بھنوروں سے زیادہ کون دیکھے گا

    گلوں کی سمت بھنوروں سے زیادہ کون دیکھے گا رخ گلنار پر الفت کا غازہ کون دیکھے گا نظر کے سامنے جو ہے اسے سب دیکھ لیتے ہیں کسی کے دل کے حجرے کا تماشہ کون دیکھے گا تمہارے بن اداسی دن پہ اکثر چھائی رہتی ہے شب فرقت فلک پر چاند تارا کون دیکھے گا محبت کا تقاضہ بس محبت ہی محبت ہے محبت ...

    مزید پڑھیے

    غم نہ دو اتنا کہ میری جاں نکل جائے کہیں

    غم نہ دو اتنا کہ میری جاں نکل جائے کہیں آنسوؤں سے جسم کی مٹی نہ گل جائے کہیں پک رہا ہو جیسے لاوا جسم کی چٹان میں تیرا دامن میری آہوں سے نہ جل جائے کہیں دل میں اس کی پرورش کرنا اگر بے سود ہے اشک بن کر خواب آنکھوں سے نکل جائے کہیں رات کے آثار ہیں پھر اک ذرا وقفے کے بعد میرا سورج بھی ...

    مزید پڑھیے

    بزدل یا مظلوم جہاں میں کہلانے سے کیا ہوگا

    بزدل یا مظلوم جہاں میں کہلانے سے کیا ہوگا ٹوٹی ہی شمشیر نکالو ڈر جانے سے کیا ہوگا کب تک یہ تقدیر کا رونا آؤ کچھ تدبیر کریں آنکھ میں آنسو چاک گریباں درشانے سے کیا ہوگا بھوکے کی تم بھوک مٹاؤ تو پھر کوئی بات بنے شیش محل کے خواب سنہرے دکھلانے سے کیا ہوگا دھرتی پر سکھ چین کی خاطر من ...

    مزید پڑھیے

    دسترس میں کہکشاں جگنو دیا کچھ بھی نہیں

    دسترس میں کہکشاں جگنو دیا کچھ بھی نہیں شکر ہے پھر بھی مرے مولیٰ گلہ کچھ بھی نہیں کون ہے مقتول قاتل کون سب خاموش ہیں بے حسی ہے ورنہ آنکھوں سے چھپا کچھ بھی نہیں اس دل بیتاب کو تسکین آخر کون دے اس کی قسمت میں تحمل کے سوا کچھ بھی نہیں روز و شب کے ان گنت اوراق پلٹے ہیں مگر زندگی کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2