عشق محنت کا صلہ حد سے سوا مانگتا ہے
عشق محنت کا صلہ حد سے سوا مانگتا ہے دل وہ مزدور ہے اجرت میں وفا مانگتا ہے بے سبب سڑکوں پہ آوارہ سا اک ننگا بدن کوئی دیوانہ ہے زخموں کی قبا مانگتا ہے وہ کثافت ہے ہواؤں میں کہ دم گھٹ جائے پھر بھی جینے کی ہر انسان دعا مانگتا ہے تیرے اس فعل کا مفہوم سمجھنا مشکل تو ہے مختار مگر میری ...