Maqsood Anwar Maqsood

مقصود انور مقصود

مقصود انور مقصود کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    عشق محنت کا صلہ حد سے سوا مانگتا ہے

    عشق محنت کا صلہ حد سے سوا مانگتا ہے دل وہ مزدور ہے اجرت میں وفا مانگتا ہے بے سبب سڑکوں پہ آوارہ سا اک ننگا بدن کوئی دیوانہ ہے زخموں کی قبا مانگتا ہے وہ کثافت ہے ہواؤں میں کہ دم گھٹ جائے پھر بھی جینے کی ہر انسان دعا مانگتا ہے تیرے اس فعل کا مفہوم سمجھنا مشکل تو ہے مختار مگر میری ...

    مزید پڑھیے

    عجیب لوگ ہیں کیا شے کہاں سے مانگتے ہیں

    عجیب لوگ ہیں کیا شے کہاں سے مانگتے ہیں یقیں کا اجر جہان گماں سے مانگتے ہیں یہ زلزلے تو تباہی سے کم پہ راضی نہیں سو یہ خراج زمان و مکاں سے مانگتے ہیں جہاں سے ملتا ہے اس سمت دیکھتے ہی نہیں کبھی فلاں کبھی ابن فلاں سے مانگتے ہیں یہ کون لے گیا چن چن کے شاخ گل کی خوشی کہاں وہ پھول جو ...

    مزید پڑھیے

    کبھی اوجھل کبھی پیش نظر ہے

    کبھی اوجھل کبھی پیش نظر ہے محبت میں شرارت کا اثر ہے لچک جائے گی شاخ گل کہاں پر نزاکت سے وہ اپنی بے خبر ہے ادائیں دل پہ دستک دے رہی ہیں محبت گفتگو سے بالاتر ہے انہیں حق ہے وہ مجھ سے روٹھ جائیں مگر دل میں رہیں یہ ان کا گھر ہے خیالوں میں رہا کرتا ہے ہر دم بچھڑ کر بھی وہ میرا ہم سفر ...

    مزید پڑھیے

    رشتوں میں بھی آئی سیاست کیسی بے ایمانی ہے

    رشتوں میں بھی آئی سیاست کیسی بے ایمانی ہے ہیں سارے الفاظ شگفتہ لہجے میں ویرانی ہے ہو گیا مشکل کیسے چھپاؤں سر سے لے کر پاؤں تلک اپنی چادر پھٹ سکتی ہے ایسی کھینچا تانی ہے اس کو پانے کی کوشش میں جان تری ہلکان ہے کیوں دنیا اندر سے پیتل اوپر سونے کا پانی ہے اس حمام میں سب ننگے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    وہ قد آور مری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا

    وہ قد آور مری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا میرے جھکنے پہ بھی وہ میرے برابر نہ ہوا اپنی دستار کا سودا نہیں ہوگا مجھ سے وقت کے قدموں پہ خم میرا کبھی سر نہ ہوا اپنی آنکھوں سے پلا کر مجھے سیراب کرو پیاس اتنی ہے کہ دو گھونٹ سمندر نہ ہوا میں تو اس بوجھ کو سینے سے الگ کر دوں گا دل کا کیا کام ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    موت تو یقینی ہے

    اس طرح ستاتے ہو دوریاں بڑھاتے ہو دوریاں بڑھانے سے فاصلے نہیں بڑھتے حوصلے نہیں گھٹتے منزلوں کو پانے کا عزم جو بھی کرتا ہے وہ قدم بڑھاتا ہے چاند چھو کے آتا ہے تارے توڑ لاتا ہے تھک کے بیٹھ جانا تو موت کی علامت ہے اور میرا ایماں ہے موت تو یقینی ہے وقت پر ہی آئے گی پھر میں کس لیے ...

    مزید پڑھیے