وادئ قلب کے حالات تمہیں کیا معلوم

وادئ قلب کے حالات تمہیں کیا معلوم
کیا ستم ڈھاتے ہیں جذبات تمہیں کیا معلوم


تم نے ہر وقت ہی خوشیوں کے اجالے دیکھے
غم کی ہوتی ہے سیہ رات تمہیں کیا معلوم


میرے اشعار اٹھاتے ہیں سوالات مگر
خاک تم دو گے جوابات تمہیں کیا معلوم


تم ہمیں بھول گئے عیش و طرب میں لیکن
ہم نے بھولی نہ کوئی بات تمہیں کیا معلوم


تم نے دی ہے وہ محبت میں دغا کیا جانو
پیار کو کیسے ملی مات تمہیں کیا معلوم


خشک ہونٹوں نے جب اللہ نگہبان کہا
کیسے آنکھوں نے کی برسات تمہیں کیا معلوم


تم تو شاداں تھے کہ بس ہار گیا ہے مقصودؔ
کس کی دراصل ہوئی مات تمہیں کیا معلوم