خشک آنکھوں میں کچھ نمی کے لیے
خشک آنکھوں میں کچھ نمی کے لیے
دل پریشاں ہے اک خوشی کے لیے
آپ روٹھیں تو دل یہ تڑپے گا
سانس ٹوٹے نہ نغمگی کے لیے
اس کو جادو نہیں تو کیا کہیے
دل مچلتا ہے اجنبی کے لیے
جس نے تھاما ہے دل سے ہاتھ مرا
دل دھڑکتا ہے بس اسی کے لیے
ہم سے قائم ہے حسن کی دنیا
عشق ہے حسن زندگی کے لیے
پھول اک در پہ اس کے چھوڑ آیا
میں نے دانستہ مخبری کے لیے
وقت مرہم ہے زخم بھر دے گا
چاہیے صبر زندگی کے لیے
دشمنی کب تھی حاصل مقصودؔ
ہاتھ بڑھتے ہیں دوستی کے لیے