آئے ہیں دینے تسلی وہ سنبھل جانے کے بعد
آئے ہیں دینے تسلی وہ سنبھل جانے کے بعد
زندگی کی دھوپ کا موسم بدل جانے کے بعد
ہے مرا بھی اک مسیحا دوستو تم دیکھنا
آئے گا لیکن وہ میرا دم نکل جانے کے بعد
عمر بھر اب قبر پر میری دعا خوانی کریں
چہرۂ اخلاص پر وہ خاک مل جانے کے بعد
ان کے آتے بزم میں کیوں ہوش سب کے اڑ گئے
دور ہوتا ہے اندھیرا شمع جل جانے کے بعد
تیغ کے دم پر گماں تھا جن کو اپنی فتح کا
محو حیرت ہیں قلم کا زور چل جانے کے بعد
جو ندی اترا رہی ہے اپنے دھارے پر ابھی
لے گی اپنا جائزہ ساگر میں ڈھل جانے کے بعد
اس جہاں میں بے غرض مقصودؔ کوئی بھی نہیں
سب بھلا دیں گے تجھے مطلب نکل جانے کے بعد