مکر و عیاری کا دامن چھوڑ دے
مکر و عیاری کا دامن چھوڑ دے
عقل سے غیرت کا رشتہ جوڑ دے
ظرف ہے تو موڑ لے کچھ پاؤں اور
چھوٹی چادر کی شکایت چھوڑ دے
جگ ہنسائی ہو نہ جائے پھر کہیں
بے سبب اوروں پہ ہنسنا چھوڑ دے
ظلم کو برداشت کرنا جرم ہے
ظالمانہ فعل کا دم توڑ دے
دل کے دونوں حرف ہوتے ہیں جدا
ہو سکے تو ٹوٹے دل کو جوڑ دے
ذہن کو شفاف دل کو پاک رکھ
آئنوں سے تو الجھنا چھوڑ دے
منزل مقصود پانے کے لیے
زندگی کو اک نیا سا موڑ دے