تپتے صحرا میں کہیں کوئی شجر آتا ہے

تپتے صحرا میں کہیں کوئی شجر آتا ہے
درد پر ترک سکونت کا اثر آتا ہے


صدمۂ ہجر سے محفوظ رکھوں گا تجھ کو
مجھ کو قسطوں میں بچھڑنے کا ہنر آتا ہے


دن گزر جاتا ہے تعبیر کی حسرت لے کر
رات ہوتی ہے تو پھر خواب اتر آتا ہے


جب سے جانے ہیں محبت کے فوائد ہم نے
ایک ہی شخص کئی بار نظر آتا ہے


درد فرقت میں تری آنکھیں فقط گیلی ہوئیں
میری آنکھوں میں میاں لال کلر آتا ہے


ہجر کی شب مرے پہلو میں رہا تیری طرح
وہ ستارہ جو بہت دور نظر آتا ہے


کوئی آوارگیٔ شہر سے بچ ہی نہ سکا
اب پرندہ بھی کہاں شام کو گھر آتا ہے


مجھ کو چمکا گئی آفاقؔ بڑوں کی صحبت
جیسے قطرے پہ سمندر کا اثر آتا ہے