عرش خدا خموش ہے تحت الثرا میں چپ

عرش خدا خموش ہے تحت الثرا میں چپ
شور اتنا ہے کہ پھیل گئی ہے فضا میں چپ


اس نے بھی اپنے ہونٹوں کو پابند کر لیا
میں نے بھی ڈال رکھی ہے دست دعا میں چپ


الزام اب تو تیر کی مانند آئیں گے
تم آئے بھی تو یوں کہ تھی آواز پا میں چپ


سورج تعلقات کا ڈھلنے پہ آ گیا
میرے جنوں میں شور ہے تیری وفا میں چپ


پندار سرد مہریٔ دنیا کی خیر ہو
دل نے اگرچہ کر لیا شامل دعا میں چپ


کوئی وجود ہی نہیں لفظ سکون کا
اپنی بقا میں چپ ہے نہ اپنی فنا میں چپ


آفاقؔ دنیا کیا ہے قیامت کے بعد بھی
زندہ رہے گی حلقۂ اہل روا میں چپ