محشر ہجر ترا صورت خس سامنے ہے

محشر ہجر ترا صورت خس سامنے ہے
اک برس بیت گیا ایک برس سامنے ہے


صورت عشوۂ خاشاک ہے آوارہ وجود
کیا سنبھل پائے گا دریائے ہوس سامنے ہے


حرف شرط آتا ہے جب تیری زباں پر سر شام
ایسا لگتا ہے کہ اک اور قفس سامنے ہے


جانے کس وقت یہ اڑ کر مرے دل تک پہنچے
منزلیں دور ہیں آزار جرس سامنے ہے


اس کا ہونا بھی نہ ہونے کی طرح ہے آفاقؔ
اس طرح ہے وہ مرے سامنے بس سامنے ہے