نشاط صحرا نوردی کا حال بولتا ہے
نشاط صحرا نوردی کا حال بولتا ہے
ہمارا شوق ہمیں کو نڈھال بولتا ہے
عروج دلبری حسرت سے دیکھنے والے
وہ سن جو سلسلۂ پائمال بولتا ہے
یہ کیا ستم ہے کہ اب اس کا سامنا ہوگا
جو لب ہلائے بنا بھی کمال بولتا ہے
بھنور کو ایک کنارہ سمجھ رہا ہوں میں
کسی کے ہونے کا کیا احتمال بولتا ہے
زمانے بھر کو میں دل سے نکال دیتا ہوں
زمانہ جب تجھے دل سے نکال بولتا ہے
حقیقی آنکھوں سے دیکھا گیا ہے یہ منظر
مرے سکوت سے تیرا خیال بولتا ہے
ابھی نہ دیکھیں گے ہم آنے والے کل کی طرف
ابھی تو گزرے زمانوں کا حال بولتا ہے