ہم اپنی روح کے اوپر عذاب دیکھتے ہیں
ہم اپنی روح کے اوپر عذاب دیکھتے ہیں
کہ روز تجھ سے بچھڑنے کا خواب دیکھتے ہیں
کبھی کبھی تو ہمیں بھی یقیں نہیں آتا
کہ ہم بہار میں جلتے گلاب دیکھتے ہیں
تمہاری چشم تمنا کو دیکھنے والے
کوئی خزانۂ غم زیر آب دیکھتے ہیں
بس ایک آس کے رشتے پہ عمر کٹتی ہے
کہ خشک پیڑ مسلسل سراب دیکھتے ہیں
جہاں جنوں کی تمازت پہ حرف آتا ہو
ہم اس مقام پہ اک انقلاب دیکھتے ہیں
ہمارے قد کا تم اندازہ کیا لگاؤ گے
ہم آنکھ موند کے صحرا میں آب دیکھتے ہیں
یہ شہر عشق تو آفاقؔ ہو نہیں سکتا
ہم اس علاقے کا موسم خراب دیکھتے ہیں