غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو

غم حیات کو اپناؤ زندگی کر لو
اب آنکھیں کھول دو اک پل کو روشنی کر لو


غموں کے دور میں تم کو اگر ہے خوش رہنا
تو مسکراؤ ذرا درد میں کمی کر لو


اسی سہارے میں اک عمر کاٹ سکتا ہوں
نظر سے چھو کے مرے خط کو سرمئی کر لو


کسے خبر ہے کہ باقی ہے زندگی کب تک
یہ مشورہ ہے کہ اب مجھ سے دوستی کر لو


اک اجنبی سے سنے میں نے تذکرے اپنے
اب اس سے اچھا ہے چرچا گلی گلی کر لو


تم اپنی ذات کو محسوس کر نہ پاؤ گے
تم اپنی ذات سے مجھ کو اگر نفی کر لو


بھٹک رہے ہو اداسی کے دشت میں آفاقؔ
تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ عاشقی کر لو