منظر نقوی کی غزل

    اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

    اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا آفتاب عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا بلوۂ باطل میں حق کی خامشی کا ساتھ دو یہ بھی نکتہ ہے مرے میثاق میں رکھا ...

    مزید پڑھیے

    تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے

    تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے نوحے ہوا کے دوش پر ہم نے سنائے تھے یہ روشنی جو دیکھتے ہو تم جگہ جگہ ہم نے یہ سب چراغ ہوا میں جلائے تھے جب قافلہ ہمارا ہوا تھا لہو میں تر اس مجمع عدو میں نظر تم بھی آئے تھے جب شام کے غبار میں اجڑا تھا کوئی باغ اجلی سحر کے پھول تھے خوشبو نہائے ...

    مزید پڑھیے

    تم نے دیکھا ہے کبھی دل یہ ہمارا ٹوٹا

    تم نے دیکھا ہے کبھی دل یہ ہمارا ٹوٹا دیکھنے آتا ہے ہر شام ستارا ٹوٹا ریگ ساحل پہ کسی نام کا آنسو ٹپکا موج بیتاب سے دریا کا کنارا ٹوٹا دل کی اک سمت بنایا تھا کوئی شیش محل غم کی آندھی میں مگر سارے کا سارا ٹوٹا تیز رفتار سفر سے تو گریزاں ہی رہے ہم کسی یاد میں گم تھے کہ اشارا ...

    مزید پڑھیے

    کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے

    کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے ہونٹ پر تالے لگے سب کے تماشا کیا ہے دل کے اک موڑ پہ رہتا ہے تمنا کا ہجوم جانے والے تو گئے کب کے تماشا کیا ہے ظلم ڈھاؤ یا بنا ڈالو محبت کا سفیر ہم نہیں رہتے کہیں دب کے تماشا کیا ہے جس کی خاموشی سے نکلا ہے سحر کا سورج ہم مسافر ہیں اسی شب کے تماشا ...

    مزید پڑھیے

    جہاں پہ پھول تھے اور یاد بھی تمہاری تھی

    جہاں پہ پھول تھے اور یاد بھی تمہاری تھی اسی پڑاؤ پہ ہم نے تھکن اتاری تھی اسی کا عکس تھا وہ چاند تھا کہ سورج تھا مگر وہ دیکھنے والی نظر ہماری تھی سبک خرام چلا اور کبھی میں ٹھہرا رہا کہ میری اپنے ہی سائے سے جنگ جاری تھی میں اپنے خواب کے اندر بھی خواب دیکھتا تھا کھلی جب آنکھ تو اک ...

    مزید پڑھیے

    آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشک مہتاب تھے

    آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشک مہتاب تھے وہ تو باغ وفا کے عجب پھول تھے خوشبوئے خواب تھے میں نے دیکھا سنا حسن کا واقعہ جب پڑھا تو کہا وہ کتاب محبت کی آیات تھے عشق کا باب تھے ان درختوں کے پیچھے کہیں میں بھی تھا اک شگوفہ کھلا کچھ پرندے شناسا طبیعت کے تھے جو کہ نایاب تھے پتی پتی کی ...

    مزید پڑھیے

    سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات

    سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات بندہ ٹھوکر کھا جاتا ہے بعض اوقات گھر کی چھت پر رم جھم بارش جلتی دھوپ یہ موسم بھی آ جاتا ہے بعض اوقات اچھی قسمت اچھا موسم اچھے لوگ پھر بھی دل گھبرا جاتا ہے بعض اوقات روزانہ تو رات گئے گھر آتا ہے شام سے پہلے آ جاتا ہے بعض اوقات جیت کے مجھ سے اتنا ...

    مزید پڑھیے

    دل کے ویرانے میں کچھ پھول تمنا کے کھلے

    دل کے ویرانے میں کچھ پھول تمنا کے کھلے ہم بجھے لوگ ترے باغ میں آ جا کے کھلے موسم عشق کی بارش میں نہائے اتنا ہم کسی چشم تصور میں بھی مرجھا کے کھلے آرزو ہے مرے مرقد پہ اگے بند کلی تو جب آئے تو ترے شوق میں لہرا کے کھلے دشت میں شور خموشی کا سنا ہے میں نے آبلے پاؤں کے سوئے ہوئے گھبرا ...

    مزید پڑھیے

    دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے

    دیار عشق میں آتے کبھو رتوں کے لیے بھٹکتے پھرتے ہو کیوں تم مہورتوں کے لیے نہ جانے کونسے لمحوں کے انتظار میں ہو ذرا بھی وقت نہیں ہے کدورتوں کے لیے کسی کسی کو ہے معلوم درد اندر کا کہ ہم تو ہنستے رہے خوب صورتوں کے لیے بہت ہیں چاہنے والے گھمنڈ رکھتے ہو ہمیں بھی چاہا تھا سب نے ...

    مزید پڑھیے

    ہنر وری کو نہ شعلہ نہ راکھ داغ بنا

    ہنر وری کو نہ شعلہ نہ راکھ داغ بنا جو دل میں لو ہے اسے شعر میں چراغ بنا وہیں سے عشق مسلسل سے آئے گی خوشبو الگ تھلگ ہی سہی کوئی اپنا باغ بنا پرندے بیٹھے ہوئے تھے شجر کے پہلو میں کہ شور و غل کا سبب ایک غول زاغ بنا بنا رہا ہوں میں اک نقش تیری چاہت کا کبھی تو دل یہ بنا ہے کبھی دماغ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2