ہنر وری کو نہ شعلہ نہ راکھ داغ بنا

ہنر وری کو نہ شعلہ نہ راکھ داغ بنا
جو دل میں لو ہے اسے شعر میں چراغ بنا


وہیں سے عشق مسلسل سے آئے گی خوشبو
الگ تھلگ ہی سہی کوئی اپنا باغ بنا


پرندے بیٹھے ہوئے تھے شجر کے پہلو میں
کہ شور و غل کا سبب ایک غول زاغ بنا


بنا رہا ہوں میں اک نقش تیری چاہت کا
کبھی تو دل یہ بنا ہے کبھی دماغ بنا


اسی کے نام کی تختی نے رہنمائی کی
وہی تو گمشدہ منظرؔ کا اک سراغ بنا