منظر نقوی کی غزل

    نہ کوئی شب بدلتی ہے نہ کوئی دن بدلتا ہے

    نہ کوئی شب بدلتی ہے نہ کوئی دن بدلتا ہے لہو ظلمت میں جب بولے نیا سورج نکلتا ہے کوئی دشت بلا ہو یا کوئی بھی ریگ صحرا ہو جہاں ہم ایڑیاں رگڑیں وہاں چشمہ ابلتا ہے گماں کا زہر پیتے ہو یقیں کا شہد بھی چکھو اسی کے ذائقے سے موت کا نشہ بدلتا ہے اسی کے ساتھ چلتا ہے کوئی امید کا جگنو کہ جس ...

    مزید پڑھیے

    رات میں چاند سے باتیں کرنا ہولے ہولے

    رات میں چاند سے باتیں کرنا ہولے ہولے آنکھ کے رستے دل میں اترنا ہولے ہولے تتلی پھول ہوا اور خوشبو رات اور جگنو جھوم کے ساز بجائے جھرنا ہولے ہولے دھڑکن دھڑکن رقص کیا ہے عکس لیا ہے البم یاد کی دیکھ سنورنا ہولے ہولے موسم پھر تبدیل ہوا ہے تیز ہوا ہے گلی سے اس کی آج گزرنا ہولے ...

    مزید پڑھیے

    دل کی خاطر خود کو منظرؔ روگ لگانا پڑ جاتا ہے

    دل کی خاطر خود کو منظرؔ روگ لگانا پڑ جاتا ہے گھر کے اندر شور اگر ہو باہر جانا پڑ جاتا ہے نیند سے پہلے جھلمل کرتے آ جاتے ہیں خواب مجسم سو جاؤں تو جو بھی دیکھوں خواب بھلانا پڑ جاتا ہے شہر کے بارہ دروازے ہیں ایک جھروکا ہے خوشبو کا سب پر تیرا نام لکھا ہے یہ سمجھانا پڑ جاتا ہے پہلے ...

    مزید پڑھیے

    پوشاک محبت تھی پھٹی ہم نے وہ سی دی

    پوشاک محبت تھی پھٹی ہم نے وہ سی دی احساس کی نگری میں کھلا رنگ شہیدی کس جبر کا نرغہ ہے مدینے کی ریاست خاموش ہے کیوں کیا ہے کوئی عہد یزیدی ہم گریہ کے پھولوں سے گرا ڈالیں گے اک دن دیوار کے پیچھے بھی ہے دیوار حدیدی تم اپنے تصور سے بناتے ہو جو مصرعے یہ ہم نے دئے تم کو خیالات ...

    مزید پڑھیے

    جب تری یاد کے رنگوں سے بنا لی ہم نے

    جب تری یاد کے رنگوں سے بنا لی ہم نے دل کی دیوار پہ تصویر سجا لی ہم نے اس کے اسباب سے نکلا ہے پریشاں کاغذ بات اتنی تھی مگر خوب اچھالی ہم نے تم سے ملنے کو ستاروں میں بھی ہلچل دیکھی مدتوں بعد کوئی فال نکالی ہم نے یوں ہی اوروں کے لیے لڑنے چلے آئے ہو کب کوئی بات تمہاری تھی جو ٹالی ہم ...

    مزید پڑھیے

    لہو میں تر ہے زمانے کا انتخاب وجود

    لہو میں تر ہے زمانے کا انتخاب وجود صلیب وقت پہ آیا ہے کامیاب وجود حسد کی آگ میں جلتے رہو تو جلتے رہو چمن کی خاک میں ہوگا مرا گلاب وجود وجود خاک ہی تو خاک کی امانت ہے تمہارا خوف رہے گا مرا حجاب وجود یہ ٹوٹتا نہیں جھکتا نہیں بدلتا نہیں تمہارے سارے سوالوں کا ہے جواب وجود تمہارے ...

    مزید پڑھیے

    سب مداری ہیں تماشا بھی ہے کوئی کوئی

    سب مداری ہیں تماشا بھی ہے کوئی کوئی اب انہیں دیکھنے والا بھی ہے کوئی کوئی میری خاموشی کو تنہائی سمجھنے والو محفل دل میں تو آتا بھی ہے کوئی کوئی سرخ مٹی میں گرے آنسو بنے ہیں موتی خاک سے ڈھونڈھ کے لاتا بھی ہے کوئی کوئی ہنستے ہنستے ہوئے آنسو بھی نکل آتے ہیں روتے روتے ہوئے ہنستا ...

    مزید پڑھیے

    سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

    سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی بے بسی کے لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی عشق بات کرتا ہے دل طواف کرتا ہے ارد گرد پھرنے سے عاشقی نہیں ہوتی زندگی کے صحرا میں ایک چاند کافی ہے قمقموں کی کثرت سے روشنی نہیں ہوتی خون کی روانی میں اس قدر محبت ہے نفرتوں کے حلقوں سے دوستی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کے دن کی رات ہوئی برسات ہوئی

    ہجر کے دن کی رات ہوئی برسات ہوئی آنکھ سے دل کی بات ہوئی برسات ہوئی تنہا تھا تو صاف رہا یہ مطلع دل یاد تمہاری سات ہوئی برسات ہوئی دل کا البم کھول کے گم صم بیٹھا تھا تصویروں سے بات ہوئی برسات ہوئی دھوپ مسافت کاٹی ہم نے ہنس ہنس کر منزل پر جب رات ہوئی برسات ہوئی پیار کے کھیل میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2