آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشک مہتاب تھے
آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشک مہتاب تھے
وہ تو باغ وفا کے عجب پھول تھے خوشبوئے خواب تھے
میں نے دیکھا سنا حسن کا واقعہ جب پڑھا تو کہا
وہ کتاب محبت کی آیات تھے عشق کا باب تھے
ان درختوں کے پیچھے کہیں میں بھی تھا اک شگوفہ کھلا
کچھ پرندے شناسا طبیعت کے تھے جو کہ نایاب تھے
پتی پتی کی صورت تھے بکھرے ہوئے گل حسیں باغ کے
سرخ آندھی چلی ہجر لاحق ہوا پھر بھی شاداب تھے
درد سے ماورا عشق کا کارواں شوق منظرؔ رہا
حسن حیرت میں ہے شل ہوئے ہی نہیں کیسے اعصاب تھے