دل کے ویرانے میں کچھ پھول تمنا کے کھلے
دل کے ویرانے میں کچھ پھول تمنا کے کھلے
ہم بجھے لوگ ترے باغ میں آ جا کے کھلے
موسم عشق کی بارش میں نہائے اتنا
ہم کسی چشم تصور میں بھی مرجھا کے کھلے
آرزو ہے مرے مرقد پہ اگے بند کلی
تو جب آئے تو ترے شوق میں لہرا کے کھلے
دشت میں شور خموشی کا سنا ہے میں نے
آبلے پاؤں کے سوئے ہوئے گھبرا کے کھلے
موسم درد کی آندھی میں تری یاد آئی
ہم تو ہجرت میں بھی منظر تجھے چمکا کے کھلے